دسمبر 1929 لاهور میں کانگرس کا جلسہ تها.لاهور چونکہ صوبہ سرحد (خیبر پختونخواه)کے قریب ہے اسلئے اس جلسے میں ہمارے صوبے سے بہت جوان گئے تهے.میں نے اور امیرممتازخان نے بهی جانے کا ارادہ کیا امیر ممتازخان ہمارے آذاد سکول کے هیڈماسٹرتهے.ہم کانگرس میں نہیں تهے ہم خلافت میں تهے صرف جلسہ دیکهنے کے لئے گئے تهے.وہاں میں نے صوبے سے گئے هوئے جوانوں کو جمع کیا اور ہم کانگرس کے پنڈال میں جگہ جگہ گهومے .ہم نے جب جوان رضاکار لڑکیوں کا قومی جذبہ دیکها تو اس سے ہم بہت زیادہ متاثرهوئے. اس جلسے نے ہمارے پشتون نوجوانوں میں قوم اور وطن کی خدمت کا احساس پیدا کردیا تها.جلسہ ختم ہوا ہم واپس آئے اور ہم نے اتمانزئ میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا جلسے میں تقریر کے لئے اٹها اور لوگوں کو مخاطب ہوا کہ آپ لوگ غلفت کی نیند سو رہے ہیں دیکهو هندووں کے مرد تو چهوڑو انکی عورتوں نے کمرکس لی ہے اور ملک کی آذادی میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کهڑی ہیں اور جدوجهد کررہی ہیں .آپ لوگ ذرا طلوع سورج کی طرف دیکهہ لیں ایک سیلاب آرہا ہے اور سیلاب ہمیشہ سوئے ہوئے قوموں کو ڈبو کر لے جاتی ہے.بیدار ہو جاو حالات کو دیکهو اور سمجهو کیا ہو رہاہے.
 انگریز کہتے ہے کہ هندوستان کو ہم نے بزور شمشیر فتح کیاہے ہم اس کے مالک ہم ہیں اور یہاں کا سارا کچهہ ہماراہے.هندو انگریزوں کوکہتے ہیں کہ ہمارے ملک پر آپ لوگوں نے قبضہ کیا ہے اب ہم سمجهہ گئے اور متفق ہوگئے ابهی ہم اپنا ملک لےکررہینگے اور یہاں حکومت ہم کرینگے
 آپ لوگ کو معلوم ہوگا یا نہیں لیکن میں آج آپ لوگوں کو بتارہا ہوں کہ انگریزوں اور هندووں کا جهگڑا اس بات پر ہے کہ هندو اپنی حکومت چاهتے ہیں اور انگریز اپنی حکومت چاهتے ہیں. لیکن مسلمان اسی طرح غفلت کی نیند سورہے ہیں .اے میرے پشتون بهائیوں آپ لوگ کیا کرینگے. دونوں کے لئے دعا کروگے اور غلامی کی زندگی کو ترجیح دوگے یا آذادی اور امن کو.اے پشتون بهائیوں اگر اپنے آپکو اس ملک کا مالک سمجتهے ہو تو اٹهہ کر اس ملک کو آزاد کرکے اپنا بنالو.
 جلسہ ختم ہوا میری تقریر کالوگوں پر اثر ہوا.رات کو ہمارے گاوں کے محمداکبرخان،سرفراز،حجاب گل اور چند جوان میرے پاس آئے اور کہا کہ باچاخان آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے انہوں نے میرے ساتهہ ایک جماعت بنانے کا مشورہ کیا.میں نے کہا کہ مجهے پتہ ہے کہ میری تقریر کا آپ لوگوں پر اثرہوا ہے لیکن یہ کوئ معمولی بات نہیں یہ بہت کانٹے دار اور تکلیف دہ راستہ ہے اچهی طرح غور اور فکر کرنے کے بعد آجاو وہ رخصت ہوئے اوراگلے دن پهر آئے میں نے کہا آپ تاریخ پڑهہ لے جو بهی الله کے مخلوق کی خدمت کیلئے نکلاہے اس پر تکلیفیں اور مصیبتیں آئ ہیں آپ لوگ تیسری بار اس پر غور وفکر کرلے.اگلی رات پهر آئے اور کہا کہ ہم نے اچهی طرح سوچ بچهار کے بعد فیصلہ کیاہے کہ ہم قوم و ملک کی خدمت میں ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں پهر ہم بیٹهہ گئے کہ اس جماعت کانام کیا ہونا چاهیئے کئ نام پیش ہوئے لیکن پسند نہیں ہوئے .رات کو میں سوچ رہا تها کہ پشتونوں میں مخلوق کی خدمت کا جذبہ نہیں ایسا نام ہونا چاهیئے جس سے پشتونوں میں الله کی رضا کیلئے مخلوق کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوجائے اگلے روز وہ آئے میں نے خدائ خدمتگار کانام پیش کیا ان سب کو پسند آیا اسی نام پر دعا خیرہوا.ہمارے دلوں میں ایک اطمینان پیدا ہوا.پشتون خدائ خدمت اس خدمت کو کہتے جو بغیر کسی اجرت اور طمع کے ہو.کیونکہ الله تعالی کو خدمت کی ضرورت نہیں بلکہ الله تعالی کے مخلوق کی خدمت الله تعالی کی خدمت ہے.

0 comments:

Post a Comment

 
Top