معذرت کے ساتھ
غور سے پڑھنا اور پھر فیصلہ کرنا
صحافت آج بھی آزاد ہے
لیکن ذرہ اس حقیقت پر ایک نظر ڈال کر فیصلہ کرنا
زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کے مالکان صرف کاروبار کرتے
کئی میڈیا ہاؤسز اور اخبارات صحافت کے نام پر مختلف سیاسی،مذہبی،سماجی پارٹیوں کے میڈیا سنٹر بنے ہیں،جس عام عوام نیوز چینلز ہی سمجھتے ہیں
کئی میڈیا ہاؤسز اور اخبارات صرف شیرا لگاتے ہیں
بہت کم میڈیا ہاؤسز اور اخبارات صرف صحافت کرکے کاروبار کررہے ہیں
ایسے میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کا کاروبار کرنے کا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ میڈیاہاؤسز اور اخبارات کو چلانے کے لئے بھی پیسہ درکار ہوتا ہے
لیکن صحافیوں کی ٹھاہ ٹھاٹے مارتا سمندر سمجھ سے بالا تر ہے
اس کی چند وجوہات ہیں
زیادہ ترمیڈیا ہاؤسز اور اخبارات کے مالکان کے غیر صحافی ہونا بھی ایک وجہ ہے
کیونکہ ایسے مالکان نے
ہر گاؤں،ہرشہر،ہرتحصیل،ہر ضلع،ہر ڈویژن میں ایسے لوگوں کو اپنا نمائندہ گان،بیوروچیفس مقرر کئے ہیں،جو صرف سیکیورٹی کے نام پر لاکھوں روپے رشوت فراہم کرسکتے ہیں، ایسے لوگوں کا صحافت سے کوئی دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا صرف اپنی ٹھات بھات کو رکھنے کے لئے نمائندہ گان اور بیوروچیف بنتے ہیں،
اور ہر ماہ اشہارات کے ماہ ایک حد مقررکرنے کی بنیاد پر مخصوص بھتہ بھی دے سکتے ہیں
حقیقی صحافی ناتو سیکیورٹی دیتے ہیں
اور ناہی ماہانہ اشتہارات کے نام بھتہ دیتے ہیں
اس لئے وہ بے روزگار ہی رہتے ہیں
زیادہ تر میڈیا ہاؤسز کا ٹاک شوز،تجزئیے،انٹرویوز پہلے خرید لئے جاتے ہیں فروخت کردئیے جاتے ہیں
زیادہ تر پروگراموں کے سوال جواب تک خردے اور فروخت کئے جاتے ہیں
پہلے سے طے ہوتا ہے کہ وقت کونسے سوال کا کونسا جواب دینا ہے،اگر ذرہ سی گذبڑہوتی ہے تو فوری بریک لے لیا جاتا ہے
ہر ایڈورٹائزمنٹ ایجنسی کے مطابق مخالفت اور حق میں پروگرام کئے جاتے ہیں
اسی طرح کئی اخبارات کا
ایک ہی بندہ کام کا ہوتا ہے
جو خود ہی رپورٹرز،خودہی نیوزایڈیٹرز،خودہی پروف ریڈرز،خود ہی کمپوزرز،خود ہی پیج میکرز،خودہی پیسٹرز،کودہی فارورڈر،خودہی نیوزایجنٹ، یہاں تک کہ خود ہی ایڈیٹر ہوتا ہے
وہ کسی ایک نیوز ایجنسی کی خبریں لیتا ہے،اسی پر کریڈٹ لائن چینج کرتا ہے،اور سرخیاں اوپر نیچے کرکے کئی سو اخبارات بناتا ہے
اور روزانہ پانچ ہزار سے پچاس ہزار کی اے بی سی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والے اخبارات کو روزانہ بیس سے ایک ہزار اخبارات شائع بھی کرواتا ہے
روزانہ جتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں اگر ان اخبارات کو سٹال پر لگانے پڑے تو اس کے دس مرلہ کا ایک وسیع و عریض سٹال درکار ہوگا
ایسے ہرایک اخبارات کے دو تین رپورٹر ہونگے،سو دو نیوز ایڈیٹر ہونگیں،کئی ایڈیٹر ہونگے کئی ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہونگے
کئی سوو نمائندہ گان ہونگے بیوروچیفس ہونگے
اینٹ اٹھاؤ تو کیڑوں کی ایک ہی اخبار کے صحافیوں ایک ہجوم سانکلے گا اور ہرجگہ صحافت کی ناک کاٹتا پھرتا نظر آئے گا
سادہ عوام ایسے میڈیا ہاؤسز کو صحافت اور صحآفت کی پٹی پلیت کرنے والے کو صحافی سمجھتے ہیں
جبکہ حقیقی صحافت میں کوئی کسی پر اعتراض نہیں کرتا،کسی پر الزام نہیں لگاتا،کسی کو بلاوجہ بدنام نہیں کرتا
صحافی یہ نہیں کہتا کہ میں خبر لگادی ہے ثبوت آپ تلاش کریں بلکہ اس کی خبر اس قدر تحقیقاتی ہوتی ہے حکومتوں تک چلتا کردیتی ہے
بے تحاشہ میڈیا ہاؤسز اور بے تحاشہ اخبارات کی وجہ سے صحافت کو ازاد نہیں ہوئی لیکن آزاد صحافت کو آداز خرافات بنادیا ہے
آپ سے درخواست ہے کہ صحافت یا صحافی غلط نہیں بلکہ غلط لوگوں کی شمولیت سے صحافت اور صحافی کو غلط انداز میں پیش کیا گیا
دوسری طرف صحافیوں کی کئی تنظیمیں،ان تنظیموں کے کئی دھڑے،ان دھڑوں کے کئی کرتا دھرتا کی وجہ صحافت اور صحافی ہی غیر محفوظ ہوگئے ہیں
اب زیادہ صحافیوں کو ئی مندرجہ بالا وجوہات کے بنا اپنے پاس رکھنے سے بھی گریزاں ہیں کیونکہ صحافی صحافت کرے یا میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کو چلانے کے لئے ایندھن بنیں
اس لئے آج کل صحافت یا صحافی سے گلہ کرنے کے بجائے ہر ایک کے انرادی کردار سے گلہ کریں اس کے انفرادی کردار کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جائے
مہربانی ہوگی

0 comments:

Post a Comment

 
Top