پرویز ہود بھائی نے جس سطح کی بات کی اسی طرح کا جواب بھی مل گیا۔ انکا کہنا تھا کہ جو قوم اپنے بچوں کو مارے میں اس پہ لعنت بھیجتا ہوں۔ ٹھیک ہے جب آپ لعنت
بھیج رہے ہیں تو اس ملک اور قوم میں رہنے کی ضرورت ؟
آپ جب چاہیں ہجرت کرسکتے ہیں۔ لیکن جائیں گے کہاں؟
مثلاً آپ امریکہ چلے جائیں گے، لیکن وہاں بھی اپنے بچوں کو نسل اور رنگ کے فرق سے مارنے کی قدیم روایت موجود رہی،
امریکی پولیس آج بھی اس پہ عمل کرتی ہے آپ آسٹریلیا چلے جائیں لیکن وہاں بھی ثقافت اور نسل کی بنیاد پہ قتل عام بیسیوں صدی میں ہوتا رہا،
آپ برطانیہ آجائیں لیکن بیسیوں صدی میں برطانیہ اپنے بچے مارنے کی بجائے تمام یتیم بچے آسٹریلیا کو بیچتا رہا ۱۹۵۹ تک ،
آپ چین چلے جائیں لیکن چین بچے نہیں جنین مارتا ہے یعنی ایک سے زائد بچہ پیدا ہی نہیں کرنے دیتا۔
آپ انڈیا چلے جائیں لیکن وہ بھی گھٹیا نسل کے بچے بڑے سب مارتا ہے۔
بہتر ہے کہ ہود بھائی افغانستان چلے جائیں۔ وہ بچے مارتے نہیں بلکہ بچوں کے شوقین ہیں
بہرحال یہ بات اسی پیرائے میں کی گئی جو پیرایہ بے ہود بھائی نے اختیار کیا۔ دونوں باتوں کو سنجیدگی سے لینا فضول ہے۔
0 comments:
Post a Comment