تراویح میں حافظ قرآن جن باتوں سے بیک وقت نمٹ رہا ہوتا ہے ان میں سے ایک مصلے کا پریشر ہے۔
دوسری بیس رکعتوں کا خیال رکھنا۔
تیسری اپنے یومیہ سبق کے کوٹے کو بیس رکعتوں پر تقسیم کر کے پورا کرنا۔کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سبق رہ جائے اور رکعتیں پوری ہو جائیں یا رکعتیں رہ جائیں اور سبق پورا ہو جائے۔
چوتھی اپنے سپارے کا غم کہ غلطیوں اور متشابہات سے بچا جائے۔
پانچویں اس بات کی فکر کہ کہیں وقت زیادہ نہ لگ جائے۔
چھٹی اپنے گلے کا فکر کہ کہیں بیٹھ ہی نہ جائے۔
ساتویں دن کو سنانے کی تیاری کرنا۔
آٹھویں قرآن مکمل ہونے تک ایک الگ غم سوار رہتا ہے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو صرف حافظ بھگت رہا ہوتا ہے مقتدی ان پریشانیوں سے ناآشنا ہوتے ہیں۔لیکن جب تراویح کے اختتام پر بڑے مزے سے آکر بیٹھتے ہیں اور کوئی کہتا ہے حافظ صاحب کیا بات ہے آج دو تین غلطیاں آئیں ہیں خیریت تو ہے نا؟
کوئی کہتا ہے حافظ صاحب! آج بہت تیز پڑھ رہے تھے
اور اگر دوسرے دن آہستہ پڑھا جائے تو کوئی اور آ کر کہتا ہے آج تو قاری عبد الباسط بن رہے تھے؟
کوئی کہے گا آج ٹائم زیادہ لگا دیا ہے۔تو جی چاہتا ہے ایسے لوگوں سے کہیں دور بھاگ لیا جائے۔
الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اور پھر  اس طرح جب تنگ کیا جانا لگے تو پھر وہ  کوشش کرتا ہے جتنی جلدی ہوسکے قرآن مکمل کر کے ایسے لوگوں سے جان چھڑا لی جائے۔۔ پریشانیاں الگ ہوتی اوپر سے ان لوگوں کی نکتہ چینیاں الگ برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

اللہ کے رضا کی حاطر اپنے قاری علماء حافظ صاحب کی قدر کیا کرے .... بہت مشکل سے علماء حافظ قاری تیار ھوتے ہیی...اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطاء فرمائیی....امین
  

0 comments:

Post a Comment

 
Top