چودہ سو چالیس میں جرمنی میں پرنٹنگ پریس(چھاپہ خانہ) ایجاد ھوتا ھے اور پورے یورپ میں آگ کی طرح پھیلتا ھے ادھر سلطنتِ عثمانیہ شیخ اسلام فتوی دیتا ھے ھماری مقدس کتابیں مشینوں پرنہیں لکھی جائیں گی پندرہ سو پچاس میں انگریز نے انڈیا میں پرنٹنگ پریس لگایا تو ہند کے علماء نے بھی فتوے کی توثیق کر دی .دو سو پچاس سال بعد مسلمانوں نے انقلابی ایجاد سے مستفید ھونے کی شروعات کی سولہ سو پینسٹھ میں پہلا انسانی بلڈ دوسرے انسان کو دینے کا کامیاب تجربہ کیاجاتا ھے ادھر پھر مذہب کے ٹھیکیداروں نے فتوی دیا کہ ایک انسانی خون دوسرے انسان پر حرام ھے جسکی وجہ سے مسلمان ڈاکڑز اس فلیڈ میں تین سو سال پیچھے رھے بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ میں ھوائی جہاز کا کامیاب تجربہ کیا ادھر علماء نے فتوی دیا جو لوگ یہ مانتے ھیں کہ لوہا بھی ہوا میں اڑ سکتا ھے اس کا ایمان چلا جائے گا ساری دنیا نے ایجاد کو دیکھا نئی ایجادات ھوئیں اور مسلمان کنفیوز گھوم رھے تھے کہ لوہا بھی ہوا میں اڑ رھا ھے اٹھارہ سو اکتیس میں اٹلی اسٹریٹ لائٹ لگائی گئیں تو رومن کتھولک چرچ کے پوپ نے انہیں حرام قرار دے دیا انکا موقف تھا کہ خدا نے ایک مقصد کے تحت رات اور دن پیدا کئے ھیں رات کی تاریکی میں روشنی کرنا جائز نہیں پاکستان میں نیا نیا ٹی وی آیا تھا مولوی حضرات اسے شیطانی ڈبہ قرار دیکر چوراہوں پر جلایا کرتے تھے آجکل خود اپنے ٹی وی چینل کھول کر بیٹھے ھوئے ھیں مولوی، پنڈت اور پادری حرکتیں سب کی ایک جیسی ھیں کسی بھی نئی سائنسی ایجاد کو پہلے مخالفت کرنا بعد میں خود ہی اس سے مستفید ھونا. پنڈت پادری مُلا صرف ان معاملات میں آواز اٹھاتے ھیں جن کا تعلق انسانی زندگی کو مزید اذیت ناک بنانا ھوتا ھے یہ کیوں نہیں آواز اٹھاتے کہ لوگ بھوکے کیوں ھیں؟ تن پر کپڑے کیوں نہیں؟ علاج کے لیے پیسے کیوں نہیں؟ بے گھر کیوں ھیں؟ استحصال اور چھینا جھپٹی کیوں ھے؟ انسان ھی ظالم اور انسان ہی مظلوم کیوں ھے؟ مذہب کے نام پر قتل و غارت کیوں ھے؟ دو کروڑ بچے سکول جانے سے محروم کیوں ھیں؟ لاکھوں بچے مزدوری کرنے پر کیوں مجور ھیں؟ بچے بچیاں جنسی تشدد کا شکار ہو کر بے دردی سے قتل کیوں کر دیے جاتے ھیں؟ لوگ خودکشی کیوں کر رھے ھیں؟ مزدورں کا معاشی قتل کیوں ھوتاھے؟ کیا نفرت کا فروغ انسانی تضحیک، عورت کی غلامی اور جہالت کی فراوانی ان کیلئے آئیڈیل سماج ھے....؟
چودہ سو چالیس میں جرمنی میں پرنٹنگ پریس(چھاپہ خانہ) ایجاد ھوتا ھے اور پورے یورپ میں آگ کی طرح پھیلتا ھے ادھر سلطنتِ عثمانیہ شیخ اسلام فتوی دیتا ھے ھماری مقدس کتابیں مشینوں پرنہیں لکھی جائیں گی پندرہ سو پچاس میں انگریز نے انڈیا میں پرنٹنگ پریس لگایا تو ہند کے علماء نے بھی فتوے کی توثیق کر دی .دو سو پچاس سال بعد مسلمانوں نے انقلابی ایجاد سے مستفید ھونے کی شروعات کی سولہ سو پینسٹھ میں پہلا انسانی بلڈ دوسرے انسان کو دینے کا کامیاب تجربہ کیاجاتا ھے ادھر پھر مذہب کے ٹھیکیداروں نے فتوی دیا کہ ایک انسانی خون دوسرے انسان پر حرام ھے جسکی وجہ سے مسلمان ڈاکڑز اس فلیڈ میں تین سو سال پیچھے رھے بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ میں ھوائی جہاز کا کامیاب تجربہ کیا ادھر علماء نے فتوی دیا جو لوگ یہ مانتے ھیں کہ لوہا بھی ہوا میں اڑ سکتا ھے اس کا ایمان چلا جائے گا ساری دنیا نے ایجاد کو دیکھا نئی ایجادات ھوئیں اور مسلمان کنفیوز گھوم رھے تھے کہ لوہا بھی ہوا میں اڑ رھا ھے اٹھارہ سو اکتیس میں اٹلی اسٹریٹ لائٹ لگائی گئیں تو رومن کتھولک چرچ کے پوپ نے انہیں حرام قرار دے دیا انکا موقف تھا کہ خدا نے ایک مقصد کے تحت رات اور دن پیدا کئے ھیں رات کی تاریکی میں روشنی کرنا جائز نہیں پاکستان میں نیا نیا ٹی وی آیا تھا مولوی حضرات اسے شیطانی ڈبہ قرار دیکر چوراہوں پر جلایا کرتے تھے آجکل خود اپنے ٹی وی چینل کھول کر بیٹھے ھوئے ھیں مولوی، پنڈت اور پادری حرکتیں سب کی ایک جیسی ھیں کسی بھی نئی سائنسی ایجاد کو پہلے مخالفت کرنا بعد میں خود ہی اس سے مستفید ھونا. پنڈت پادری مُلا صرف ان معاملات میں آواز اٹھاتے ھیں جن کا تعلق انسانی زندگی کو مزید اذیت ناک بنانا ھوتا ھے یہ کیوں نہیں آواز اٹھاتے کہ لوگ بھوکے کیوں ھیں؟ تن پر کپڑے کیوں نہیں؟ علاج کے لیے پیسے کیوں نہیں؟ بے گھر کیوں ھیں؟ استحصال اور چھینا جھپٹی کیوں ھے؟ انسان ھی ظالم اور انسان ہی مظلوم کیوں ھے؟ مذہب کے نام پر قتل و غارت کیوں ھے؟ دو کروڑ بچے سکول جانے سے محروم کیوں ھیں؟ لاکھوں بچے مزدوری کرنے پر کیوں مجور ھیں؟ بچے بچیاں جنسی تشدد کا شکار ہو کر بے دردی سے قتل کیوں کر دیے جاتے ھیں؟ لوگ خودکشی کیوں کر رھے ھیں؟ مزدورں کا معاشی قتل کیوں ھوتاھے؟ کیا نفرت کا فروغ انسانی تضحیک، عورت کی غلامی اور جہالت کی فراوانی ان کیلئے آئیڈیل سماج ھے....؟
0 comments:
Post a Comment