ایک کینسر شدہ انسانی جسم اور ایک بدعنوان معاشرے میں کیا مشابہت ہوتی ہے تحریر ابرار خان
انسانی جسم محتلف قسموں کے سیلوں پر مشتمل ہوتا ہے. یہ سیل بدستور نئے سیلوں کو جنم دیتے ہیں. یعنی ایک سیل دو نئے سیلوں کو اور دونئے سیل چارنئے سیلوں کواور یہ چارنئے پھر آٹھ نئے سیلوں کو جنم دیتے ہے. اس طرح پرانے سیل ختم ہوتے جاتے ہیں اورنئے سیل بدستور پیدا ہوتے رہتے ہیں. یہ ایک قدرتي عمل ہے جو مرتے دم تک انسانی جسم میں جاری رہتا ہے.
بعض اوقات محتلف وجوہات کی بنیاد پر کوئی ایک سیل برے سیلوں کو جنم دینا شروع کر دیتا ہے. اس وجہ سے اب یہ برے سیل بڑی تیزی سے بلکل دیگر اچھے سیلوں کی طرح پہلے دو پھر چار پھر آٹھ وغیرہ برے سیلوں کو پیدا کرنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں البتہ یہ برے سیل اچھے سیلوں کی نسبت بہت ہی تیزی سے نشو نامہ پاتے ہیں. ان برے سیلوں کے مجموعے کو ہم کینسر کہتے ہیں. یہ برے سال بڑھتے بڑھتے ایک پھوڑا با ٹیومر کی شکل احتیار کر لیتے ہیں.
اگر یہ برے سیل خون کے اندر پرورش پائیں تو مزید انتہائی تیزی سے پھیلتے ہیں بنسبت اگر یہ کسی انسانی جسمانی آرگن جیسے گردے، پھیپھڑے وغیرہ پر پرورش پائیں تو کم تیزی سے پھیلتے ہیں.
یہ تمام عمل ایک عرصہ تک جسم میں رواں دواں رہتا ہے اور اگر بروقت اان برے سیلوں کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ برے سيل تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں اور اس كے نتیجے میں تمام اچھے سیلوں کو ختم کر دیتے ہیں. جس کا نتیجہ بالآخر انسانی موت کی صورت میں واقعی ہوتا ہے.
اب آتے ہیں اس کے علاج کی طرف: اگر کینسر کی بر وقت تشخیص ہو جائے تو اس کے علاج کے دو عمل ہوتے ہیں اول تمام برے سیلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور دوئم برے سیلوں کو جسم سے مکمل طور پر ختم کیا جائے. عموماً ان برے سیلوں کو ختم کرنے کے لئے تابکاری شعاعوں کا استعمال کیا جاتا ہے. جبکہ دوائیوں کی مدد سے ان برے سیلوں کی مزید پھیلنے سے روکا جاتا ہے.
اب لیتے ہیں اس قدرتی عمل کی مثال کو ایک معاشرتی عمل میں: تمام اچھے یا برے سیلوں کو آپ انسان سمجھ لیں، انسانی جسم کو ایک معاشرہ تصور کر لیں ، ٹیومر کو ایک بدعنوان ادارہ سمجھ لیں. اب ایک معاشره جس میں بدعنوانی کا عنصر انتہائی پھیل چکا ہو اور اس کا علاج درکار ہو تو اسکے علاج کا وہی عمل درکار ہوگا جو جسمانی کینسر کے علاج کے لیۓ درکار ہوتا ہے. تابکاری کے عمل کو ایک انتہائی سخت آہنی ہاتھ سے تشبیہ دے دیں اور دواؤں کو معاشرے میں اچھے اقدامات سے تشبیہ دے دیں.
میرے ذاتی خیال کے مطابق ایک انتہائی بدعنوان معاشرے کی مثال اور اس کا علاج اس سے بہتر مثال سے واضع کرنا ناممکن ہوگا اگرچہ کچھ لوگ میری اس مثال سے متفق نہیں ہوں گے جو ان کا قطعی حق ہے لیکن میں سمجتا ہوں کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں برے سیل انتہائی تیزی سے اور ایک لمبے عرصے سے نمو پا رہے ہوں اور اس معاشرے کو کینسر کی طرح جکڑ چکے ہوں وہاں اس معاشرے کو بچانے کے لیئے انتہائی اقتدامات کے علاوہ کوئی اور علاج ممکن ہی نہیں رہ جاتا. اگر اس علاج کے دوران ایک بھی برا سیل بچ گیا تو تمام عمل ایک بار پھر سے شروع ہو جائے گا. اس سب کے لیے صرف ایک ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہے
0 comments:
Post a Comment