حکومت صوابی کے گاؤں شاہ منصور میں غریب کسانوں کے روزی روٹی کی زمین کو سرکاری کرنے جارہا ہے یاد رہے اس سے پہلے بھی حکومت نے شاہ منصور کی 6000 کنال اراضی کو سرکاری کیا تھا ۔
مزے کی بات تو یہ ہے کہ بنجر زمین کے بجائے شاہمنصور کے انتہائی زرخیز زمینوں کو سیکشن 4 کے تخت ہڑپ کرنے کی اس سازش میں ضلعی انتظامیہ سمیت صوبائی حکومت ملوث ہے اور چند با اثر شخصیات کی زمینوں کو بچانے کی خا طریہ لوگ زرعی زمینوں کو آفیسر کالونی وغیرہ قسم کی بیکار سکیموں کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔
مجھے یہ بتایا جائے کہ یہ لوگ مل کر شاہ منصور کے مظلوم کسانوں پر ظلم کیوں کر رہے کیا حکومت کی اب یہی ذمہ داری رہ گئی ہے کہ غریب لوگوں سے ان کی زمین چین کر اور انکی جونپڑیوں کو برباد کر کےان کی روزی روٹی چینی جائے اور چند افسران اور ان کے مخصوص چیلوں کو نوازا جائے۔
آخر شاہ منصور کے کسانوں کاقصور کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ہم ڈی سی صوابی، سپیکر صوبائی اسمبلی جناب اسد قیصر صاحب ، صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ اور وزیر اعظم پاکستان سے کسانوں کی داد رسی کی پرزور اپیل کر کے ان سے مطالبہ کہرتے ہیں کہ اس ظلم اور لا قانونیت کو روکھا جائے۔
مزے کی بات تو یہ ہے کہ بنجر زمین کے بجائے شاہمنصور کے انتہائی زرخیز زمینوں کو سیکشن 4 کے تخت ہڑپ کرنے کی اس سازش میں ضلعی انتظامیہ سمیت صوبائی حکومت ملوث ہے اور چند با اثر شخصیات کی زمینوں کو بچانے کی خا طریہ لوگ زرعی زمینوں کو آفیسر کالونی وغیرہ قسم کی بیکار سکیموں کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔
مجھے یہ بتایا جائے کہ یہ لوگ مل کر شاہ منصور کے مظلوم کسانوں پر ظلم کیوں کر رہے کیا حکومت کی اب یہی ذمہ داری رہ گئی ہے کہ غریب لوگوں سے ان کی زمین چین کر اور انکی جونپڑیوں کو برباد کر کےان کی روزی روٹی چینی جائے اور چند افسران اور ان کے مخصوص چیلوں کو نوازا جائے۔
آخر شاہ منصور کے کسانوں کاقصور کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ہم ڈی سی صوابی، سپیکر صوبائی اسمبلی جناب اسد قیصر صاحب ، صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ اور وزیر اعظم پاکستان سے کسانوں کی داد رسی کی پرزور اپیل کر کے ان سے مطالبہ کہرتے ہیں کہ اس ظلم اور لا قانونیت کو روکھا جائے۔




0 comments:
Post a Comment