فضل اور اچکزئی کے پیروکاروں نے پر عجیب سازشی تھیوریاں پھیلائی ہوئیں۔ کبھی کہتے مرجر "فاٹا کے وسائل لُوٹنے کا پلان" ہے۔ کبھی کہتے "سینیٹ میں پختونوں کےخلاف سازش" ہے۔ کبھی کہتے "قبائل کو KPK کا غلام بنایا جا رہا ہے"۔ حقیقت کیا ہے؟ کوشش کروں گا اس پوسٹ میں واضح کر سکوں
فاٹا "آئینی طور پر" بےشک KPK کا حصہ نہیں تھا، لیکن "عملی طور پر" ہم پہلے دن سے KPK کا حصہ ہیں۔ یوں سمجھ لیں فاٹا کی 50 لاکھ آبادی KPK پر بوجھ تھی جبکہ KPK کو ان کیلئے بجٹ نہیں ملتا تھا۔ اب یہ فرق آئےگا کہ "عملی تعلق" وہی رہےگا۔ لیکن اتنا ہوگا کہ کم ازکم KPK کو فاٹا کیلئےبجٹ ملےگا
فاٹا کے لاکھوں مریض ہر سال KPK کے سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرواتے۔ فاٹا کے ہزاروں طالبعلم ہر سال پشاور/مردان/کوہاٹ/بنوں/ڈیرہ کے سکول/کالج/یونی سے پڑھتے۔ ان سب چیزوں پر "پیسہ" لگتا ہے۔ 70 سال سے یہ پیسہ KPK "اپنے وسائل" سے دے رہا ہے۔ جبکہ فاٹا کا "اپنا حصہ" سیفران/گورنر/PA کھا جاتے
باجوڑ/مہمند/خیبر کے لاکھوں IDPs کو پشاور/چارسدہ/مردان نے پناہ دی۔ کرم/اورکزئی والوں کو کوہاٹ/ہنگو نے، وزیرستان والوں کو بنوں/ڈیرہ نے۔ آج JUI/PkMAP کہتے "KPK والے فاٹا کے وسائل لُوٹ لیں گے"؟
سوات میں آپریشن 2008 میں شروع ہوا اور 2010 تک حالات نارمل ہوگئے۔ فاٹا میں آپریشن 2003 میں شروع ہوئے، آج بھی "مکمل امن" نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ سوات KPK میں ہے۔ اس کے "والی وارث" موجود تھے (صوبائی لیول)۔ فاٹا کا کوئی "والی وارث" نہیں تھا۔ بس سیفران، گورنر اور 7 پولیٹیکل ایجنٹس کا راج تھا فاٹا میں اس وقت کوئی "پوچھنے والا" نہیں تھا۔
آپ 20 ارب کی بجائے 100 ارب بھی سالانہ اس کنویں میں ڈالتے تو غائب ہو جاتا۔ صوبے کے انڈر آنے سے ایک "انتظامی کور" مل گیا۔ ہر چیز "زیرو سے" نہیں کرنی پڑےگی۔ سب سے اہم بات: سیاسی/حکومتی ڈھانچے کو accountable ہونا پڑےگا۔ گورنر تو بادشاہ تھا۔فاٹا صوبے کی چولیں مارنے والوں کو فاٹا کے جغرافیے کا اندازہ تک نہیں۔
فاٹا ایک لمبی زنجیر ہے جس کا ایک سرا تقریباٗ چترال سے جا ملتا ہے (باجوڑ)، جبکہ دوسرا سرا بلوچستان سے جا ملتا ہے (جنوبی وزیرستان)۔
کوئی "سینٹرل پوائنٹ" نہیں فاٹا میں۔ آئیڈیل لوکیشن پشاور ہی ہے "سب ایجنسیوں" کیلئے
مجبوراٗ پشاور کو ہی فاٹا کا بھی کیپیٹل رکھنا پڑتا (جیسے"فاٹاسیکرٹریٹ" پشاور تھا)۔ تو اگر پشاور ہی رکھناہے تو KP کیوں نہیں؟
یہاں کے کتنے مخالف جانتے، کہ باجوڑ پہلے ہی کمشنر ملاکنڈ کے انڈر ہے؟ مہمند/خیبر کمشنر پشاور کے انڈر۔ اورکزئی/کرم کمشنر کوہاٹ جبکہ شمالی/جنوبی وزیرستان کمشنر بنوں/ڈیرہ کے انڈر۔ فرق بس یہ کہ کمشنرز فاٹا ایجنسیوں کےمعاملات میں "گورنر KP" کو رپورٹ کرتےتھے۔ اب CM کو کریں گے
اس وقت KPK کے "تینوں بڑے عہدے" (چیف جسٹس / IG / آنے والےکیرٹیکر وزیر اعلیٰ) قبائلیوں کے پاس۔ کیا KPK اس طرح سے فاٹا کے قبائل کو غلام بنائےگا؟ :) اچکزئی/فضل کے پیروکار اب کیا چُورن بیچیں گے کے خلاف؟ نفرت کے سوداگرو: خدا کیلئے بس کر دو۔ فاٹا پختونخوا کا "بچھڑا بھائی" ہے

0 comments:

Post a Comment

 
Top