میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان پھر سے مشکل میں جا رہا ہے، ارادے سب کے نیک ہیں۔ جج، جرنیل اور سیاستدان سب ملک کی بہتری کے خواہش مند ہیں لیکن حالات کا دھارا ہمیں پھر سے منجدھار کی طرف لے جا رہا ہے۔ ہم بڑی مشکل سے جمہوریت کی کشتی کو گرداب سے نکال لائے تھے مگر شوریدہ سر سمندر ایک بار پھر اس کمزور نائو پر حاوی ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک کے ادارے انتہائی قابل، بین الاقوامی ڈگری یافتہ کھلی آنکھوں اور کھلے ذہن والے لوگ چلا رہے ہیں مگر وہ کر وہی رہے ہیں جو گزشتہ 70سال سے ہو رہا تھا۔ وہی ٹوٹتی بنتی اسمبلیاں، وہی احتساب، وہی بے وفا انتخابی گھوڑے، وہی راندئہ درگاہ سیاسی جماعت اور وہی لاڈلے۔ یہ تو سب کچھ وہی ہے جو 70سال سے ہو رہا ہے نئے اور پختہ کار ملکی قائدین سے تو توقع تھی کہ وہ ملک کو ایک نئی سمت میں لے جائیں گے، مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھیں گے، سیاست سے کرپشن کو نکال باہر کریں گے مگر سیاسی جماعتوں کو مضبوط کریں گے، کرپٹ کو سزا دیں گے مگر کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ افغانستان اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں جوہری تبدیلی لائیں گے، امریکہ کے ساتھ بگڑتے تعلقات کو سنبھالیں گے مگر یہاں تو دنیا بھر سے لڑنے اور چھٹی جنریشن وار کے غلغلے بلند کئے جا رہے ہیں، پھر سے میکارتھی کے اصول لاگو کر کے غدار اور محب وطن کا کھیل جاری ہے۔ یہ تو جنرل ضیاء اور جنرل یحییٰ خان والا ہی پرانا کھیل ہے ، پھر ملک کیسے بدلے گا؟
Home
»
»Unlabelled
» ملک کیسے بدلے گا؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment