میں مشعل خان کو نہیں جانتا
وہ مسلمان تھا یا نہیں۔۔
وہ مسلمان تھا تو سنی تھا یا کوئی اور۔۔۔

وہ نماز ی تھا یا نہیں ۔۔۔
میں صرف ایک انسان کو جانتا ہوں جس کا معاملہ اس کے اور اس کے خالق کے درمیان ہے۔
میں صرف ایک انسان کو جانتا ہوں جس کی حفاظت کا ذمہ دار پورا انسانی معاشرہ ہے۔
میں صرف ایک پاکستانی کو جانتا ہوں جس کی جس کی جان و مال کی ضامن پاکستان کی حکومت ہے۔
 میں صرف ایک آئینے کو جانتا ہوں جس نے معاشرے کو اس کا چہرا دکھایا۔ وہ چہرہ جو مکروہ سے مکروہ تر ہوتا جا رہا ہے۔
اور پھر
یہ آئینہ توڑ دیا گیا۔
چہروں کی کراہت بڑھ گئی
انسانیت کا معاملہ اس کے پاک خالق کی عدالت سے زبردستی ناپاک معاشرے کی عدالت میں چلایا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف باقی نہ رہا
انصاف اور عدل کا مذاق اڑایا گیا
انسان کو انسان نے مار دیا
پاکستانی شہری کو بے حفظ و امان مار دیا گیا
لا قانونیت جیت گئی ۔۔ آئین ہار گیا
پاکستان شرمندہ ہو گیا
اور
معاشرے کو اس کا چہرہ دکھانے والا آئینہ توڑ دیا گیا
 

0 comments:

Post a Comment

 
Top