مشال کی گستاخی۔۔۔۔
 ہاں وہ گستاخ اور مخالف تھا طبقاتی نظام کا۔اندھی تقلید کا۔اسلام فروشی کا۔خدا کا نام بیچنے والوں کا۔مذھبی جنونیت کا۔تھیوکریسی کا۔شدت پسندی کا۔کرپٹ انتظامیہ کا۔عقل اور شعور کے دشمنوں کا۔فرقہ واریت کا۔شاونزم کا۔رنگ و نسل کے امتیاز کا۔ظلم اور ناانصافی کا۔۔کٹرملائیت کا۔۔فرسودہ روایات و اقدار کا۔۔ماضی پرستی کا۔۔شخضیت پرستی کا۔۔استحصالی نظام کا۔۔جبر کے قانون کا۔۔۔منقولات کا۔۔تنگ نظری اور انتہاپسندی کا۔۔ خاموشی کا۔۔جمود کا۔۔۔استخراجی تنقید اور رویوں کا۔۔فرضی قصے کہانیوں کا۔۔اندھیرے کا۔۔شب پرستوں کا۔۔لاحاصل بحث اور مکالمے کا۔۔جہالت کا۔۔۔۔ یہی ان کی اس نظام اور معاشرے میں سب سے بڑی قابل اعتراض گستاخی اور قابل گرفت مخالفت تھی۔۔۔انہیں اپنی علمیت۔۔بصارت و بصیرت۔ سچائی۔۔ایمانداری۔ خوداعتمادی۔۔خودداری۔حقیقت بیانی۔اخلاص ۔آگہی اور شعور نے اس مقام پر لاکھڑا کردیا جہاں وہ اپنے آپ کو بھول کر خدا کی مظلوم و محکوم مخلوق کے حقوق کے حصول کے لیے درجہ بالا گستاخیوں کے مرتکب ٹھہرے۔۔۔۔لہذا فیصلہ کیاگیا کہ۔
اسے مصلوب ہی کرنا پڑے گا
کہ اس کی سوچ ہم سے مختلف ھے

0 comments:

Post a Comment

 
Top